مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، غاصب اسرائیلی حکومت کے داخلی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے فلسطینی خواتین قیدیوں کے خلاف سخت اقدامات کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں مزید مشکلات کا سامنا کرنا چاہیے اور قیدیوں کو سزائے موت دینے کے قانون پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔
ایتامار بن گویر نے مقبوضہ فلسطین کے شمال میں واقع دیمون جیل کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے فلسطینی خواتین قیدیوں کے حالات کا جائزہ لیا۔
رپورٹ کے مطابق بن گویر نے جیل میں فلسطینی خواتین قیدیوں کی مشکل صورتحال کا تمسخر اڑایا اور قیدیوں کے خلاف سخت پالیسی جاری رکھنے پر زور دیا۔
اسرائیلی چینل 14 کے مطابق دورے کے دوران بن گویر نے ایک فلسطینی قیدی خاتون سے اس کے حالات کے بارے میں سوال کیا۔ قیدی نے جواب دیا کہ موجودہ حالات اور سلوک انتہائی مشکل ہیں، تاہم بن گویر نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال معمول کی بات ہے۔
اسرائیلی وزیر نے کہا کہ دہشت گرد کو تکلیف اٹھانی چاہیے اور اسے خوش نہیں ہونا چاہیے، جبکہ فلسطینی قیدیوں کی شکایات کے باوجود انہوں نے جیل کے حالات سے اطمینان کا اظہار کیا۔
بن گویر نے فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کے قانون کے نفاذ کے حوالے سے کہا کہ یہ قانون پہلے ہی منظور ہو چکا ہے، تاہم اب تک ان کے بقول کوئی ایسا معاملہ سامنے نہیں آیا جس میں اس سزا کے نفاذ کو ضروری سمجھا جائے۔
اسرائیلی پارلیمنٹ نے گزشتہ مارچ میں فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کے قانون کی منظوری دی تھی، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور مختلف حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی ہے۔
دیمون جیل مقبوضہ فلسطین کے شمال میں حیفا کے قریب واقع ہے، جہاں مبینہ سکیورٹی الزامات کے تحت فلسطینی خواتین قیدیوں کو رکھا جاتا ہے۔
آپ کا تبصرہ